ابنا: حضرت آیت الله علامہ سید ساجد علی نقوی کے اعلان کے مطابق ہم بھر پورقوت و طاقت کے ساتھ ملت کی تقدیر کا فیصلہ خود اسلام آباد میں کرنے والے ہیں ، وطن عزیز پاکستان اس وقت تاریخ کی بدترین دہشت گردی ' امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اندورنی خلفشار کا شکار ہے۔ ٹارگٹ کلنگ ' بم دھماکے' لوٹ مار اور کرپشن روزانہ کا معمول بن چکے ہیں۔ اور خیبر سے لیکر سندھ اور بلوچستان سے لیکر گلگت بلتستان تک کی عوام کا مذہب و مسلک ، لسانیات اورذات پات کے نام پر قتل ِ عام جاری ہے-
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں ہمارے خلاف غلیظ فتوے لگائے گئے، غلیظ نعرے اور وال چاکنگ کے ذریعے کھلی فتنہ انگیزی کی گئی، چن چن کرانفرادی اور اجتماعی طریقوں سے قابل قدر لوگوں کو قتل کروایا گیا۔مزدوروں، سبزی فروشوں کو بیدردی سے تہہ تیغ کیا گیا۔ مدعی و گواہان مارے گئے، وکلا ،ڈاکٹرز، پروفیسرزاور جج صاحبان کو بھی دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا لیکن کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ بیگناہ لوگوں کو مسافر گاڑیوں سے شناخت کر کے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس پورے عرصے میں ریاست اور ریاستی اداروں کی خاموشی معنی خیز رہی۔عدل و انصاف کے علمبرداروں کو ہوش نہ آیا کہ چھوٹے چھوٹے واقعات میں تو وہ سوموٹو ایکشن لیتے ہیں مگر اس کھلی دہشتگردی پر اُنہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔گلگت، چلاس، بابو سر، کراچی، اورگزئی ایجنسی،پارا چنار اور دیگر مقامات پر بے گناہ عوام کو آئے روز بیدردی سے قتل کیا جا رہا ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے اعلان کے مطابق ہم بھر پورقوت و طاقت کے ساتھ ملت کی تقدیر کا فیصلہ خود اسلام آباد میں کرنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریاستی اداروں اور عدلیہ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ ان خود کش حملہ آوروں اور دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟ان کو کون چلا رہا ہے؟ اور ان کے پالنے پوسنے والے کون ہیں؟اُن کی پشت پناہی کون کر رہا ہے؟انہیں مالی معاونت کون فراہم کر رہا ہے؟ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدم ثبوت کے نام پر دہشتگردوں، قاتلوں اور شرپسندوں کو رہا کیا جا رہا ہے۔ آج تک ہمارے قاتلوں میں سے کسی مجرم کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا جس کی وجہ سے دہشتگردوں کے ہاتھوں سے پاکستان کا کوئی ادارہ اور شہر محفوط نہیں۔ جو لوگ ہمارے قاتل ہیں وہ ہی جی ایچ کیو، مہران ائیر بیس، منہاس ائیر بیس اور حساس اداروں اور اہلکاروں پر حملوں میں ملوث ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی ایک مسلک کے دشمن نہیں بلکہ وہ وطن عزیز پاکستان کے بنیادی دشمن ہیں۔
ہم نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کو ایک یاداشت بھی پیش کی اگرچہ اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،مگر چونکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان میں نہتے عوام کے قتل عام کا نوٹس لیا ہے اسی لیے اس یاداشت میں اُن کو پاکستان میں ٹارگٹ کلنگ کی اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
آخر میں ملک میں حالیہ سیلاب اور کراچی و لاہور میں فیکٹریوں میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ہونے والی جانی ضیاع پر متاثرہ خاندانوں سے دلی رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ چونکہ وہ محنت کش طبقے کے حقوق کی براہ راست ذمہ دار ہے لہذا اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف جلد از جلد کارروائی کر کے متاثرہ خاندانوں اور ملک بھر کی عوام میں پھیلی بے چینی کو دور کرے۔سیلاب زدہ لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے حکومت ذمہ داری نبھائے۔ ہم بھی متاثرہ لوگوں سے تعاون کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
.....
/169